’’مجھے باہر بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں تھا ‘‘وزیراعظم عمران خان نے بڑا اعتراف کرلیا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں بڑا خوف ہے کہ روپیہ گر رہا ہے لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ،منی لانڈرنگ کے خلاف آئندہ ہفتے قانون سازی لے کر آرہے ہیں

مجھے باہر بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں تھا ۔ ہم مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے چار اقدامات کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کریں تاکہ ہماری ایکسپورٹ بڑھیں ،اوور سیز 20ارب ڈالر کے ترسیلات زر بھجواتے ہیں اگر انہیں مراعات دیدی جائیں تو 10ارب ڈالر مزید آ سکتے ہیں اس کے لئے ہم نے پلان بنا لیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اوور سیز ہنڈی حوالہ کی بجائے بینکنگ چینل سے اپنی ترسیلات بھجوائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کسی ملک کو اٹھاتی ہے ،

پاکستان کی جغرافیائی صورتحال بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ سرمایہ کاروں کی اس لئے بھی دلچسپی ہے کہ پاکستان میں 12کروڑ پاکستانیوں کی عمر 35سال سے کم ہے جو بہترین لیبر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری اینٹی کرپشن مہم ہے کہ سرمایہ کار گڈ گورننس چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 27سال بعد ایگزون کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے ،جون تک پتہ چل جائے گا کہ یہاں گیس کا ذخیرہ ہے اور انکے تجزیے کے مطابق یہاں پچاس سال کے لئے گیس کے ذخائر ہیں اور

کمپنی 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہی ہے، سوزوکی 450ملین ڈالر ،کوکا کولا500اور پیپسی800ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی ،گاڑیاں بنانے کی کمپنی نے 900ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے جو ہمارے ساتھ کولیشن کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیاء کے دورے سے پتہ چلا کہ حلال میٹ مارکیٹ کتنی وسیع ہے اور اس کا حجم 2ہزار ارب ڈالر ہے لیکن اس میں ہمارا شیئر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ میں نے کٹوں کی بات تو اس پر بات شروع کر دی گئی ۔

ملائیشیاء کے سرمایہ کار پاکستان میں حلال گوشت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں سٹینڈرئزیشن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑا پوٹینشل ہے اور آپ دیکھیں گے کہ یہاں کتنی سرمایہ کاری آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ سے بیحد نقصان پہنچا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کو منی لانڈرنگ سے سالانہ 10ارب ڈالر کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیاہے اور اگلے ہفتے قانون سازی لے کر آرہے ہیں ۔

اوور سیز کی ترسیلا زر آتی ہیں جومنی لانڈرنگ کے ذریعے باہر چلا جاتاہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے بڑے پیمانے پر ٹیکس دینے والے ایک ٹیکس پیئر کی کہانی سنی ہے جس پر ایف آئی کا کیس بنا دیا گیا ۔1970ء میں22خاندانوں کے خلاف اقدامات شروع ہوئے ، نیشنلائزیشن ہوئی اس وقت ملک کتنی تیزی سے اوپر جارہا تھا ۔ ہمیں سرمایہ کاری کرنے والے کو سراہانا چاہیے ،ایک سرمایہ کاری کرے گاتو دوسرا سرمایہ کار اسے دیکھ کر سرمایہ کاری کرے گا لیکن یہاں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ۔ اگر ہم رکاوٹیں اورمشکلات پیدا کر دیں گے تو سرمایہ کاری نہیں آئے گی ۔ جہاں فیکٹریاں ہونی چاہئیں تھیں وہاں رئیل اسٹیٹ بن رہی ہے ہم اس سوچ کو بدل رہے ہیں ۔ ہم کاروباری افراد کو موقع دینا چاہتے ہیں ، ہم ایزآف ڈوئنگ بزنس آفس بنا رہے ہیں جو رکاوٹیں دور کرے گا ۔ ہم وزیر اعظم آفس سے کوشش کریں گے کہ آسانیاں پیدا ہوں ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان اورعبد الرزاق داؤد نے لاہور چیمبر کے عہدیداروں اور تاجروں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں