پاکستان اور انڈین بلتستان کے عوام کااپنی حکومتوں سے لیہ سکردو اور کارگل سکردو روڈ کھو لنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

کرتار پور بارڈر کھولنے کے بعد بلتستان کے لوگوں کا لیہ سکردو اور کارگل سکردو روڈ کھولنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، تاکہ منقسم خاندان مل سکیں-
دونوں طرف کے عوام نے کئی بار پاکستان اور انڈیا کے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ یہ روڈز کھول دیا جائے کاکہ 1971 جنگ میں بچھڑے خاندان اپنے پیاروں سے مل سکے-
بلتستان کے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اگر کرتار پور بارڈر کھولا جا سکتا ہے تو سکردو کارگل روڈ اور لیہ سکردو روڈ کیوں نہیں کھولا جا سکتا،
یہ بارڈر 1971 کی جنگ بندی کے بعد سے تا حال بند ہے، اس بارڈر کے دونوں طرف بسے خاندان صرف چند کلو میٹر کے فاصلوں پر رہتے ہوئے بھی اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے،
اس علاقے میں بسنے والے لوگ زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اتنا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے،
بارڈر کے دوسری طرف تقریباً 5000 سے زائد خاندان آباد ہیں جن کے رشتہ دار بلتستان کے علاقے چھوربٹ، خپلو، سکردو وغیرہ میں آباد ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں