پاکستان میں موجود 12حسین ترین سیاحتی مقامات میں بلتستان کے منٹھو کھا آبشار اور دیوسائی شامل

سیاحتی مقامات اپنے اندر قدرتی طورپرایسی کشش رکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے سیاحت کے شوقین افراد ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے دوردرازکے سفراختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا شماراپنے جغرفیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیزمیدان بھی، دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سرزمین پر17 بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، ہمارے وطن عزیز میں چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی چھب دکھاتے ہیں الغرض ہرمزاج کے ملکی اورغیر ملکی سیاحوں کے لئے قدرت نے یہاں دل پذیری کا بھرپورانتظام کررکھا ہے۔

آج ہم آپ کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں سےمنتخب سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں تاکہ آپ طے کرسکیں کہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے آپ کےمزاج کے مطابق موزوں ترین علاقہ کون ساہے۔

گورکھ ہل

سندھ کے شہردادوکے شمال مغرب کوہ کیرتھر پرگورکھ ہل اسٹیشن واقع ہے، یہ صوبہ سندھ کا بلند ترین مقام ہے اور سطح سمندر سے5،688فٹ بلند ہے جوکہ پاکستان کے مشہور ترین ہل اسٹیشن مری کا ہم پلہ ہے۔ کراچی سے گورکھ ہل اسٹیشن کا فاصلہ 400 کلومیٹرہے۔

مہرانو وائلڈ لائف
سندھ کے علاقے کوٹ دیضی سے دو کلومیٹر کے فاصلے پرمہرانو وائلڈ لائف سینچری واقع ہے یہ ایک وسیع و عریض محفوظ جنگل ہے جہاں مختلف اقسام کی جنگلی حیات کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں جنگلی ہرن موجود ہیں جبکہ تیزی سے معدوم ہوتے کالے ہرن کو بھی یہاں تحفظ فراہم کیا جارہاہے اور اب انکی تعداد لگ بھگ 650 ہوگئی ہے۔

ہنگول نیشنل پارک
بلوچستان میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو 6،19،043 ایکڑرقبے پرپھیلا ہوا ہے۔ کراچی سے 190 کلومیٹر دوریہ پارک بلوچستان کے تین اضلاع گوادر،لسبیلہ اورآواران کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقہ میں بہنے والے دریائے ہنگول کی وجہ سے اسکا نام ہنگول نیشنل پارک رکھا گیا ہے۔ اس علاقہ کو 1988میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ ہندوؤں کا معروف ہنگلاج مندربھی اس پارک میں‌واقع ہے
یہ پارک کئی اقسام کے جنگلی درندوں ، چرندوں آبی پرندوں ، حشرات الارض دریائی اور سمندری جانوروں کا قدرتی مسکن ہے۔
امید کی دیوی یا پرنسز آف ہوپ کہلایا جانے والا 850سال قدیم تاریخی مجسمہ بھی اسی نیشنل پارک کی زینت ہے۔

پیرغائب
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پرپیرغائب نامی مقبول تفریح گاہ ہے جہاں بلاشبہ بلوچستان کا سب سے خوبصورت آبشارواقع ہے۔ آبشار سے بہنے والا پانی چھوٹے تالابوں کی صورت جمع ہوتا ہے اور کھجور کے درختوں کے ساتھ مل کر انتہائی دل آویز منظر تشکیل دیتا ہے۔ یہاں آنے کے سبی روڈ سے جیپ لینا پڑتی ہے۔

کھیوڑہ کی نمک کی کانیں
پاکستان کے ضلع جہلم میں کھیوڑہ نمک کی کان واقع ہے۔ یہ جگہ اسلام آباد سے 160 جبکہ لاہور سے قریبا 250 کلومیٹرفاصلہ پرہے۔
کھیوڑہ میں موجود نمک کی یہ کان جنوبی ایشیا میں قدیم ترین ہے اور دنیا میں دوسرا بڑا خوردنی نمک کا ذخیرہ ہے۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سکندر اعظم 322 ق م میں اس علاقے میں آیا تو اس کے گھوڑے یہاں کے پتھر چاٹتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک فوجی نے پتھرکو چاٹ کر دیکھا تو اسے نمکین پایا۔ یوں اس علاقے میں نمک کی کان دریافت ہوئی۔ اس کے بعد یہ کان یہاں کے مقامی راجہ نے خرید لی اور قیام پاکستان تک یہ کان مقامی جنجوعہ راجوں کی ملکیت رہی۔

روہتاس کا قلعہ
شیرشاہ سوری کا تعمیرکردہ قلعہ روہتاس 948ھ میں مکمل ہوا، جو پوٹھوہار اورکوہستان نمک کی سرزمین کے وسط میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے ایک طرف نالہ کس، دوسری طرف نالہ گھان اور تیسری طرف گہری کھائیاں اور گھنا جنگل ہے۔ شیر شاہ سوری نے یہ قلعہ گکھڑوں کی سرکوبی کے لئے تعمیر کرایا تھا۔
دوسرے قلعوں سے ہٹ کر قلعہ روہتاس کی تعمیر چھوٹی اینٹ کی بجائے دیوہیکل پتھروں سے کی گئی ہے۔ ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس قلعے کی تعمیر میں عام مزدروں کے علاوہ بے شمار بزرگانِ دین نے بھی اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں سمیت حصہ لیا۔ ان روایات کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ قلعے کے ہر دروازے کے ساتھ کسی نہ کسی بزرگ کا مقبرہ موجود ہے، جبکہ قلعہ کے اندر بھی جگہ جگہ بزرگوں کے مقابر پھیلے ہوئے ہیں۔

ملکہ کوہسارمری
ملکہ کوہسارمری پاکستان کے شمال میں ایک مشہوراورخوبصورت سیاحتی تفریحی مقام ہے۔ مری شہردارالحکومت اسلام آباد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پرواقع ہے۔ مری کا سفرسرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اوردوڑتے رقص کرتے بادلوں کے حسین نظاروں سے بھرپور ہے۔ گرمیوں میں سرسبز اورسردیوں میں سفید رہنے والے مری کے پہاڑ سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش کاباعث ہیں۔

مری – گرمیوں میں
مری سطح سمندر سے تقریباً 2300 میٹر یعنی 8000 فُٹ کی بلندی پرواقع ہے۔ مری کی بنیاد 1851 میں رکھی گئی تھی اور یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدرمقام بھی رہا۔ ایک عظیم الشان چرچ شہرکے مرکزکی نشاندہی کرتا ہے۔
چرچ کے ساتھ سے شہر کی مرکزی سڑک گزرتی ہے جسے “مال روڈ” کہا جاتا ہے۔
ایوبیہ نیشنل پارک مری سے 26 کلومیٹر دور صوبہ سرحد، پاکستان میں واقع ہے۔ سابق صدر پاکستان جناب ایوب خان کے نام پر اس علاقے کا نام ایوبیہ رکھا گیا۔ چار مختلف پہاڑی مقامات گھوڑا گلی، چھانگلہ گلی، خیرا گلی اور خانسپور کو ملا کر ایوبیہ تفریحی مقام بنایا گیا۔

ٹھنڈیانی
ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے جنوب میں واقع ہے۔ ایبٹ آباد شہر سے اسکا فاصلہ تقریبا 31 کلو میٹر ہے۔ اسکے مشرق میں دریائے کنہار اور کشمیر کا پیر پنجال سلسلہ کوہ واقع ہے۔ شمال اور شمال مشرق میں کوہستان اور کاغان کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ شمال مغرب میں سوات اور چترال کے برف پوش پہاڑ ہیں۔ ٹھنڈیانی سطح سمندر سے 9000فٹ (2750 میٹر) بلند ہے۔
جھیل سیف الملوک وادی کاغان کے علاقے ناران میں 3224 میٹر/10578 فٹ کی بلندی پرمیں واقع ہے اوراس کا شمار دنیا کی حسین ترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ ناران سے بذریعہ جیپ یا پیدل یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ صبح کے وقت ملکہ پربت اوردوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے۔
جھیل سے انتہائی دلچسپ لوک کہانیاں بھی منسوب ہیں جو یہاں موجود افراد کچھ روپے لےکرسناتے ہیں اوراگر آپ جھیل سے منسوب سب سے دلچسپ کہانی سننا چاہتے ہیں تو جھیل پر کالے خان نامی نوے سالہ بزرگ کو تلاش کیجئے گا۔

منٹھوکا آبشار
بلتستان کے مرکزی شہر اسکردو سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مادو پور نامی گاؤں ہے جس کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا آبشار منٹھوکا ہے جس کی اونچائی لگ بھگ 140 فت ہے۔ یہاں آںے کے لئے آپ کواسکردو سے گاڑی کرایے پر لینی ہوگی اور اگر آپ کے پاس اپنی ذاتی گاڑی ہے تو بھی آپ باآسانی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔

دیوسائی
دیوسائی نیشنل پارک سطح سمندر سے 13،500 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ پارک 3000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ نومبر سے مئی تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ بہار کے موسم میں پارک پھولوں اور کئی اقسام کی تتلیوں کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔
دیوسائی دو الفاظ کا مجموعہ ہے ‘دیو’ اور ‘سائی’ یعنی ‘دیو کا سایہ۔’ ایک ایسی جگہ، جس کے بارے میں صدیوں یہ یقین کیا جاتا رہا کہ یہاں دیو بستے ہیں۔ آج بھی مقامی لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ حسین میدان مافوق الفطرت مخلوق کا مسکن ہے۔ یہاں دیکھتے دیکھتے ہی موسم خراب ہونے لگتا ہے، کبھی گرمیوں میں اچانک شدید ژالہ باری ہونے لگتی ہے۔ ہر لمحہ بدلتے موسم کی وجہ سے دیوسائی میں دھوپ چھاؤں کا کھیل بھی جاری رہتا ہے۔
یہ علاقہ جنگلی حیات سے معمور ہونے کی وجہ سے انسان کے لیے ناقابل عبور رہا۔ برفانی اور یخ بستہ ہواﺅں، طوفانوں، اور خوفناک جنگلی جانوروں کی موجودگی میں یہاں زندگی گزارنے کا تصور تو اس ترقی یافتہ دور میں بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے آج تک اس خطے میں کوئی بھی انسان آباد نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں