گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کیلئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کیلئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

مظفرآباد: گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے نمائندگان منتخب کرنے، بااختیار مقننہ، حکومت اور اعلیٰ عدالتی نظام دیا جائے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے قرارداد کی متفقہ طور پرمنظوری دے دی۔وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اے جے کے قانون ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا بااختیار نظام دینے کا مطالبہ کر دیا ہے، قرارداد سے اپوزیشن نے بھی اتفاق کرلیا.
قرارداد میں گلگت بلتستان کے عوام کو آزاد کشمیر کی طرزپر حکومتی، انتظامی، آئینی اور عدالتی سیٹ اپ دینے کا مطالبہ کیا گیاہے، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام میں پائی جانے والی بےچینی دور ہو سکے ۔آزادکشمیرقانون ساز اسمبلی میں تمام پارلیمانی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، اور جموں کشمیر پیپلزپارٹی نے قرارداد کی متعفقہ منظوری دی.
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزاد کشمیر سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ، آزاد کشمیر کی کوئی بھی سیاسی جماعت گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی مخالف نہیں، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے خود لڑ کر وہ خطہ آزاد کروایا تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے،وہاں آزاد کشمیر جیسے بااختیار سیٹ اپ کیلئے بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں،
پی پی پی کے سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید، جماعت اسلامی کے عبدالرشید ترابی اور پی ٹی آئی کے ماجد خان نے قرار داد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے بجائے عوام کو آزاد کشمیر کی طرز پر بنیادی حقوق دیے جائیں ۔
حالیہ قرارداد میں واضح طور پر گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کیا، گلگت بلتستان کے عوام کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ خطے کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی راہ میں کوئی ناقابل حل رکاوٹ موجود ہے تو آزاد کشمیر طرز کا حکومتی نظام دیا جائے۔

Share Post
  • 14
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    14
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں