ہم امن چاہتے ہیں مگر بھارت کو جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: میجر جنرل آصف غفور

ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے پاس بھارت کو جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آج صبح سے لائن آف کنٹرول پر کچھ سرگرمی چل رہی ہے، آج صبح پاک فضائیہ نے لائن آف کنٹرول پر مقبوضہ کشمیر میں 6 ٹارگٹ کو انگیج کیا، ہماری فضائیہ نے اپنی حدود میں رہ کر ہدف مقرر کیے، ہمارے پائلٹس نے ٹارگٹ کو لاک کیا اور پھر محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اپنے ٹارگٹ لینے سے پہلے فیصلہ کیا کہ کہ کوئی ملٹری ہدف نہیں لیا جائے گا، دوسرا فیصلہ کیا کہ ٹارگٹ میں کسی انسانی زندگی کا نقصان نہ ہو، ہمارے اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو ہمیں غیر ذمہ دار ثابت کرے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے ہماری طرف آئے، ہماری فضائیہ تیار تھی جس کے نتیجے میں دونوں بھارتی جہاز گرے جس میں سے ایک جہاز ہماری اور دوسرا ان کی طرف گرا، اس کے علاوہ بھی ایک جہاز کے گرنے کی اطلاع ہے،
ترجمان پاک فوج نے دو بھارتی پائلٹوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹوں کے ساتھ مہذب ملک کی طرح سلوک کیا، ایک زخمی پائلٹ کو سی ایم ایچ منتقل کردیا اور دوسرا ہماری حراست میں ہے، پائلٹس سے کچھ دستاویزات بھی ملی ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کے ایف سولہ طیارے کو گرانے کے بھارتی دعوے کو بھی مسترد کیا اور بتایا کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایف 16 استعمال ہی نہیں کیا، اس لیے پاکستان کا کوئی جہاز نہیں گرایا گیا۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پاک فضائیہ کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، لیکن جواب کیسے دیا جاتا؟ کیا اسی طریقے سے جیسے بھارت نے دیا یا وہ طریقہ جو ایک ذمہ دار ملک کا ہوتا ہے، ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں، ہم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور اپنے ٹارگٹ کو پورا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی وجہ سے نہیں کرنا چاہتے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جس طرح ہم نے مختلف جواب دیا اس طرح پاکستانی میڈیا نے بھی امن کی صحافت کی، ہم نے اپنے دفاع میں ایکشن کیا، میڈیا سے درخواست ہےکہ امن کے راستے کی رپورٹ کریں، اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس وقت کی رپورٹنگ مختلف ہوگی، ہمیں ریاستِ پاکستان، حکومتِ پاکستان اور ایک باصلاحیت افواج کے طور پر امن کا پیغام دینا ہے، ہم نے پیغام دیا ہےکہ صلاحیت ہونے کے باوجود ہم امن کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، اگر ہم پر جارحیت نافذ کی گئی تو ہم جواب دیں گے۔

Share Post
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنا تبصرہ بھیجیں