K-2اور اہرام مصر میں مماثلت؛ ایک حیران کن انکشاف

K-2اور اہرام مصر میں مماثلت؛ ایک حیران کن انکشاف

پاکستان میں پائی جانے والی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2 کو یوں تو اپنی اونچائی کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے تاہم حال ہی میں اس کے بارے میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

ایک فرانسیسی ریاضی داں ڈینیئل پیروشیا نے اپنی کتاب ’دا کیس آف کے 2، میتھا میٹیکس اینڈ ماؤنٹینرنگ‘ میں کے 2 کی چوٹی کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین اس چوٹی کی لمبائی 8 ہزار 6 سو 11 میٹر ہے۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ کے 2 کی چوٹی نہایت خوبصورت اور ایک مکمل ہرم (تکون عمارت) ہے۔


اہرام مصر
یہی وجہ ہے کہ مصر کے عظیم اہرام میں رکھے گئے فراعین کے حنوط شدہ جسم ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اب تک صحیح سلامت موجود ہیں۔

src=”http://baltitv.com/wp-content/uploads/2019/01/aleqm5g8hibfh-300×195.jpg” alt=”” width=”300″ height=”195″ class=”alignnone size-medium wp-image-1457″ />

ناسا کے ایک سائنسدان کے مطابق ’اہرام توانائی کا ذریعہ ہیں‘، ماہرین کے مطابق اس طرح اہرام بنا کر اس میں رہا جائے اور مراقبہ کیا تو ذہن پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

قدیم مصریوں کا خیال تھا کہ تکون اشکال کی عمارات توانائی کو اپنی جانب کھینچتی ہیں تاہم تاحال سائنسدان اس معمے کو حل کرنے میں ناکام ہیں کہ توانائی اس مجموعے کی جانب کیسے اور کیوں کشش کرتی ہے۔

www.baltitv.com

Share Post
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

اپنا تبصرہ بھیجیں